بسم اللہ الرحمن الرحیم
مکاتب کی اہمیت وافادیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، اس لئے کہ موجودہ مسلم سماج اور معاشرے میں دینی تعلیم کے مقابلے عصر تعلیم کی جانب رجحان زیادہ ہے ، نسل نو اردو زبان سے خال خال ہی واقف ہے ، ایسے میں ان عصری درسگاہوں کو جانے والے طلبہ کے لئے مکاتب کا قائم کرنا ، ان کے لئے جزء وقتی تعلیم کا نظم اور ان کے لئے دینی معلومات بہم پہنچانا وقت کا اہم فریضہ اور ایک عظیم جہادہے ، اس لئے کہ ہمارے اکابرین نے مکاتب کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ : قرآن وناظرہ پڑھنے کے بعد بچہ سب کچھ ہوسکتا ہے ، لیکن کافر نہیں ہوسکتا۔اگر مکاتب میں قرآن وناظرہ کے ساتھ دینی معلومات اور صحیح تربیت ور نشو ونما کا نظام ہو تو امت کے ایمان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا، مکتب کا قیام فرض عین ہے اور مدارس کا قیام فرض کفایہ ہے ، اس لئے کہ فرض عین والی تعلیم وتربیت مکتب سے حاصل ہوجاتی ہے ۔
لیکن اس وقت موجودہ مکاتب کے نظام کو مؤثر اور منظم اور امت کے نونہالوں کے لئے مفید او ر ان کے ایمان کی حفاظت کا عظیم ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے ، بہت سارے مکاتب اس نظم ونسق کے ساتھ چل بھی رہے ہیں، لیکن اس سلسلے کی زریں ہدایات اور میدان کار کے تجربات جس کی روشنی میں استاذ ، طالب ، انتظامیہ اور والدین مل کر مکاتب کے نظام کو صحیح مطلوبہ طریقے پر کیسے منظم اور منسق کریں جس کے ذریعے واقعة ان مکاتب کے ذریعے امت کے دین وایمان کی حفاظت صحیح سامان ہوسکے ۔
میرے زیر نظر ایک کتاب بنام” منظم ومؤثر مکاتب کے اصول وآداب” ہے ، جس کو مفتی احمد اللہ نثار قاسمی ، ناظم دار العلوم رشیدیہ ، وصدر دار الافتاء والرشاد حیدرآباد نے ترتیب دیا ہے ، واقعہ دریا بکوزہ کے مصداق مکاتب کے حوالہ سے مؤثر رہنمایا ہدایات اور مفید تجربات اور نصاب ونظام کی صحیح رہنمائی ورہبری، مکاتب صبیان، مکاتب بالغان سے لے کر مکاتب نسوان اور ٹیوشن وغیرہ پڑھانے کے حوالہ سے بھی اکابرین کے قصص وحکایات اور مفید اور حکمت پر مشتمل باتوں کی روشنی میں نہایت اچھوتے اورالبیلے انداز میں مواد کو پیش کیا ہے ۔

جس کے اہم عناوین یہ ہیں جس کے ذریعے تفصیلی مواد پر روشنی پڑجاتی ہے ۔
(١) تدریب المعلمین وقت کی اہم ضرورت
(٢) مکتب کے اقسام ، اہمیت ومقاصد
(٣) مکتب کے اساتذہ کرام کی اہمیت واجمالی ذمہ داریاں
(٤)مکتب کا قیام واستحکام
(٥) مکتب کو منظم ومؤثر کیسے بنائیں
(٦) تعلیمی نفسیات کا علم اور اس کی اہمیت
(٧) ٹیوشن کے ذریعے مکتب کی ترغیب دیں
(٨) تعلیم بالغان کا طریقہ کار
(٩) تعلیم بالغان وتربیت بزرگان کی مختلف شکلیں
(١٠) مکاتب نسوان قیام وطریقہ کار
(١١)تعلیم نسوان وتربیت بنات کی مختلف شکلیں
(١٢) مکتب کے معاونین کی ذمہ داریاں
(١٣) مکتب پڑھانے کے لئے والدین کی ذمہ داریاں
جس میں مولف نے جزء وقتی مکاتب کے معلمین تربیت وٹریٹنگ پر بھی زور دیا ہے ، جس طرح عصری علوم کے اساتذہ کی ہر وقت تربیت وٹریننگ کا اہتمام ہوتا ہے، یعنی اساتذہ اپنی تدریس کو مؤثر کیسے بنائیں، بچوں کی نفسیات کو ملحوظ رکھ کر ان کے ساتھ ہمدردی کا معاملہ کیسےکریں، ان کی اندرونی صلاحیتوں کو کیسےاجاگر کریں۔
ساتھ ہی مکتب کے مقاصد پر بھی روشنی ڈالی ہے ، مکتب کے مقاصد میں صحت قرآن (تجوید سے قرآن پڑھنا جس سے نماز درست ہوجائے) ضروری اور بنیادی مسائل کی جانکاری ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے متعلق وہ بنیادی معلومات جس سے رسالت ، وختم نبوت اور ذات پاک سے محبت پیدا ہوجائے، اخلاقی تربیت پر مشتمل واقعات جس کے ذریعے اسلامی تربیت ہوجائے ، محفوظات ومتفرقات ( کلمات اسلام، روز مرہ کی مسنون دعائیں، وظائف نماز، حفظ سورتیں وحدیثیں اور اذکار یومیہ ) کی یاد دہانی وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔
مکتب کے استاذ کی اہمیت کو بھی بتلایا کہ وہ بخاری شریف پڑھانے والے سے کم نہیں ہیں، اخلاص کے ساتھ نورانی قاعدہ پڑھانے والے ریاکاء کاری کے ساتھ بخاری پڑھانے والے سے بہتر ہیں ، قیام مکاتب کی فکر کو بھی مؤلف نے پروا ن چڑھایا ہے ، بڑے خوبصورت انداز میں مکتب کے قیام کی شکلیں بتائی ہیں، پہلی صورت : مسجد میں مکتب کا قیام، دوسری صورت: اسکول کے بعد اسکولی بچوں کے لئے مکتب کا نظام، تیسری صورت: اسکولی نظام میں ایک گھنٹہ مکتبی نظام کا اہتمام، چوتھی صورت: گھر پر مکتب کا قیام ۔
قیام مکتب کے ساتھ استحکام مکتب کے حوالہ سے سیر حاصل بحث کی ہے ، جس میں اکابرین کی سرپرستی میں مکاتب کا قیام، مستحکم مکاتب کا دورہ ،وہاں کے نظام تعلیم وتربیت کا مشاہدہ، مکتب کے استاذ کے اوصاف، تدریب المعلمین کا اہتمام، نصاب اور نصاب کی تکمیل کی مدت، ساتھ ہی مکاتب کے لئے مالیہ فراہمی کی مختلف شکلیں ، سزا کا اسلامی تصور ،تادیب کے مراحل اس سلسلے میں مفصل و مدلل کلام کر کے مکاتب کے استحکام کے طریقہ کار کو بتلایا ہے ۔
اس کے علاوہ ٹیوشن پڑھانے والوں کے لئے بھی رہنمایانہ ہدایات بتلائی ہے ، جو ان کے لئے کارآمد اور واقعةجس کے ذریعہ اس ٹیوشن کے طریقہ کار کو بھی دینی نشر واشاعت کا ذریعہ بنایاجاسکتا ہے ۔
ساتھ ہی مکاتب بالغان کی اہمیت اور بالغان کو پڑھانے کا انداز وطریقہ کار ، ان کی مؤثر تربیت کے اسلوب کو کافی وشافی انداز میں بیان کیا ہے ۔خصوصا بالغان وبرزگان کی تعلیمی مضامین کے حوالے اہم کتابوں کی رہنمائی کی ہے ۔
اخیر میں مکاتب نسوان کی اہمیت ضرورت اور قدر وقیمت پر روشنی ڈالی ہے، جس کے ذریعہ انسانیت کے اس نصف حصے کو دینی واخلاقی تربیت سے مزین کیا جائے ، ان کی عالمات ومعلمات کے علم کو ضیاع سے کیسے بچایا جائے ، تعلیم نسوان اور تربیت بنات کی مختلف شکلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔جس میں درس قرآن ودرس حدیث، خواتین کے لئے سنڈے کلاسیس، ماہانہ موسمی پروگرام، خواتین کے لئے سیرتی پروگرام، خواتین کے لئے کاؤنسلنگ، گرمائی کلاسیس، ٹیوشن سنٹر کے ذریعہ تعلیم، ٹیلرنگ سینٹر کے ذریعہ تعلیم، شادی کورس کا نظام، میڈیکل کیمپ کے ذریعہ دینی ذہن سازی، بیوہ خواتین میں وظیفہ کی ذریعہ دینی تربیت ، تعلیم نسواں میں ان امور کو اختیار کرنے کو موثر بتایا گیا ہے ۔
مکتب کے معاونین کے ذمہ داریاں اور مکتب پڑھنے والے بچوں کی والدین کی ذمہ داریاں کا بھی تذکرہ کیا ہے ، اس لئے کہ استاذ ، طالب علم کے ساتھ انتظامیہ اور والدین کی دلچسپی اور تعلیم وتربیت کے حوالہ سے توجہ ونگرانی اور وسائل واسباب کی صحیح اور کامیاب فراہمی اوروالدین کا تعلیم میں بچوں کی صحیح رہنمائی ورہبری یہ سارے وہ امور ہوتے ہیں جس کے ذریعے ایک مکتب کامیاب ومؤثر مکتب بن سکتا ہے ، جس مکتب سے امت کے نونہالوں کی صحیح دینی رہنمائی ورہبری کا کام انجام دیا جاسکتا ہے ، جو ہمارے اکابرین کے قیام مکاتب کے ذریعہ سے ان کا مقصد اور مطمح نظر بھی رہا ہے ۔
ماشاء اللہ کتاب مکاتب کو منظم ، موثر کیسے بنایا جائے، مکاتب کو موثر بنانے کے لئے کونسے اصول محلوظ رکھنے ہیں، کن آداب کی رعایت کرنی ہے ، مکاتب صبیان بوالغان سے لے مکاتب نسواں کو کامیاب طریقہ سے کیسے چلایا جاسکتا ہے ، ساری امور کا کتاب اکابرین کے تجربات اور واقعی زندگی میں مکاتب کے حوالے ان کی جدوجہد اور تگ ودو کی روشنی میں احاطہ کرتی ہے ۔
نہایت مؤثر اور اپنے موضوع پر بیش قیمت اور بیش بہا کتاب ہے ، یہ کتاب مکتبہ الاحسان لکھنو سے طبع شدہ ہے ، ١٥٧ صفحات پر مشتمل ہے ، ابتداء میں اکابرین (حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب، حضرت مولانا عبدالقوی صاحب،حضرت مولانا مفتی ابوبکر صاحب دامت برکاتہم)کے کلمات تبریک وتقریظ وتاثرات شامل ہیں، ساتھ میں مرتب کا پر اثر پیش لفظ غبار خاطر کے نام سے ملحق ہے ، یہ کتاب مدرسہ دار العلوم رشیدیہ مہدی پٹنم ، حیدرآباد سے اس نمبر پر ربط کرکے حاصل کی جاسکتی ہے



